ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ایک عددی لاٹری کیس میں سی بی آئی کی جانچ

ایک عددی لاٹری کیس میں سی بی آئی کی جانچ

Sat, 06 Aug 2016 18:46:02    S.O. News Service

کرناٹک کے ڈی جی پی اور کیمپیا سے تین گھنٹوں کی پوچھ تاچھ

بنگلورو6اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)کروڑہا روپیوں کے ایک عددی لاٹری گھپلے کے سلسلے میں جانچ کیلئے سی بی آئی نے ریاستی پولیس کے ڈائرکٹر جنرل اوم پرکاش اور وزیر داخلہ ڈاکٹر جی پرمیشور کے مشیر کیمپیا کو طلب کرکے دہلی میں ان سے تقریباً تین گھنٹوں تک جانکاری حاصل کی۔ سی بی آئی ہیڈکوارٹرس سے تقریباً گھنٹوں تک ان دونوں سے سی بی آئی افسران نے اس گھپلے کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور تحقیقات آگے بڑھانے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس گھپلے کے سلسلے میں پہلے ہی اوم پرکاش اور کیمپیا کے نام لئے جارہے تھے ،اس وجہ سے سی بی آئی نے آج ان دونوں کو طلب کیا۔اس سے پہلے بھی سی بی آئی نے اس معاملے میں بعض آئی پی ایس افسران سے جب پوچھ تاچھ کی تو ان لوگوں نے بھی اوم پرکاش اور کیمپیا کا نام لیا۔جس کی وجہ سے مرکزی تحقیقاتی ایجنسی کوان دونوں افسران کے تئیں سخت رخ اپنانا پڑا۔ لاٹری گھپلے کے سلسلے میں پہلے ہی گرفتار شدہ کلیدی ملزم پاری راجن کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے کے الزام میں اس سے پہلے اے ڈی جی پی سنیل کمار ، آئی پی ایس افسران الوک کمار ، ہری شیکھرن ، ارون چکرورتی ، ڈی سی پی دھرنیش ، ستیش کمار اور دیگر 35 سے زائد افسران سے سی بی آئی نے پوچھ تاچھ کی اور اس گھپلے کے سلسلے میں کچھ عرصہ قبل الوک کمار کو معطل کیاگیاتھا۔ان تمام افسران نے سی بی آئی کو جو جانکاری دی ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے سی بی آئی نے ڈی جی پی اوم پرکاش سے پوچھ تاچھ کی۔ آئی جی پی درجے کے ایک آفیسر نے سی بی آئی کو بتایا ہے کہ جس وقت پاری راجن کے خلاف ایف آئی آر درج کیاگیا تھا اس وقت اوم پرکاش نے انہیں روکنے کی کوشش کی اور ایف آئی آر درج ہوجانے پر ناراضگی ظاہر کی۔ جیسے ہی ریاست میں ایک عددی لاٹری کا معاملہ سامنے آیا حکومت نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے معاملے کی جانچ سی بی آئی کے سپرد کردی اور اس کے سرغنہ پاری راجن سے مبینہ تعلقات کے الزام میں الوک کمارکوملازمت سے معطل کردیاگیاتھا۔


Share: